ابنا: باقری نےاشمیتھ کےنام اپنےپیغام میں لکھاہےکہ جینیوامیں ہونےوالےمذاکرات کےدو دور میں آپ نےیہ کہتےہوئےکہ ہم مذاکرات کےلئےجینوا نہيں آئےہیں، نہ تو کوئی پروگرام پیش کیااور نہ ہی ایران کی تجاویزکاواضح جواب دیا۔
تیئس اورچوبیس مئی کوبغداد میں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان ہونےوالےمذاکرات میں طرفین نےمذاکرات کےجاری رہنےپراتفاق کیاتھا اوراعلان ہوا تھا کہ مذاکرات کادوسرا دور سترہ اوراٹھارہ جون کوماسکومیں ہوگا ۔
علی باقری کاتنقیدی خط ایسےعالم میں سامنےآیاہے کہ بغداد اجلاس کےپانچ روزبعد انھوں نےمحترمہ اشمتھ کےنام دوخط بھیج کر یہ تجویزدی تھی کہ ماسکواجلاس سےپہلےجناب جلیلی ومحترمہ اشٹن نیزطرفین کےماہرین کےدرمیان مذاکرات انجام پائے۔ ان خطوط کی ایک کاپی گروپ پانچ جمع ایک کےرکن ممالک کوبھی بھیج دی گئی تھی ۔
بغداد اجلاس کی آخری میٹنگ میں یہ بھی کہاگیاتھاکہ ماسکومذاکرات اسی صورت میں کامیاب ہوں گےجب جناب جلیلی اور محترمہ اشٹن نیزفریقین کےماہرین ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کی تجاویزکی بنیاد پرواضح ایجنڈہ تیارکرلیں ۔
اس بات کےپیش نظرکہ باقری نےمحترمہ ہلگا اشمیتھ کےنام اپنےپیغام میں تاکید کی ہےکہ اس وقت رائےعامہ کویہ اہم سوال درپیش ہےکہ بغداد اجلاس میں ہونےوالےمعاہدےکےبرخلاف ماہرین اورسکریٹری کی سطح پرآئندہ مذاکرات کاایجنڈہ تیارکئےجانےسےاجتناب کیاجارہاہے؟ باقری کےخط سےپہلے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری سعیدجلیلی نےیورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین اشٹن کےنام اپنےایک خط میں لکھاتھاکہ گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سےماہرین اورسکریٹری سطح کےمذاکرات کےانعقاد میں پس وپیش ماسکومیں کامیاب مذاکرات کےلئےان کےعزم کےبارےميں شکوک وشبھات پیدا کررہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران، شکوک کودورکرنے اورباہمی تعاون میں فروغ کےلئے مذاکرات کوواحدراستہ سمجھتاہے اورکھلی ہوئی منطق اورجدت عمل کےذریعے تعاون کےلئےمشترکہ نکات کےحصول کےلئے گروپ پانچ جمع ایک کےساتھ مذاکرات میں پیشرفت کاخواہاں رہا ہے لیکن اس وقت بعض ماہرین کاخیال ہےکہ مذاکرات سےمغرب کامقصد یکطرفہ طورپرغیرمنطقی موقف پیش کرنا اور ایران کےخلاف ماحول تیارکرنےکےلئےبہانہ ڈھوندھنا ہےجبکہ ایسےعمل کاکوئی نتیجہ نہيں نکلےگا جس میں مذاکرات برائےمذاکرات ہوں اورمذاکرات اسی وقت مثبت اورتعمیری قراردیئےجاسکتےہيں جب منطقی تناظرمیں اور ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کی تجاویزکی بنیاد پر انجام پائيں ۔....... /169